نئی دہلی ، 11؍اگست (ایس او نیوز؍یو این آئی) زرعی قوانین کی مخالفت کرنے والی اپوزیشن جماعتوں کانگریس، ترنمول کانگریس، بائیں بازو اور عام آدمی پارٹی کے اراکین نے جنرل سکریٹری کی میز پر چڑھ کر راجیہ سبھا میں نعرے بازی کرنے لگے - جس کی وجہ سے ایوان کی کارروائی تین التواء کے بعد دن چار بجے کے لیے ملتوی کرنا پڑی-تین التواء کے بعد پریزائیڈنگ افسر بھونیشور کالیتا نے چار بجے کارروائی شروع کی اور دن بھر کے لیے ایوان ملتوی کرنے کا اعلان کیا- اس سے قبل اے اے پی کے سنجے سنگھ، ترنمول کانگریس کے موسم نور، کانگریس کے پرتاپ سنگھ باجوہ، ماؤ نواز پارٹی کے مسٹر شوداسن اور سی پی آئی کے ونے وشوام نے جنرل سکریٹری کی میز پر نعرے لگائے - یہ ممبران بھی میز بجا رہے تھے - دوسرے اراکین شور مچا رہے تھے - اس سے پہلے کانگریس کے رپون بورا، دیپندر ہڈا اور کانگریس کے راج منی پٹیل بھی میز پر کھڑے ہوگئے تھے -اس سے قبل بھی زرعی قوانین اور پیگاسس جاسوسی کیس کے حوالے سے ایوان کی کارروائی12بجے اور پھر2بجے تک ملتوی کرنی پڑی- ایوان میں آج بھی وقفہ سوال اوروقفہ صفر نہیں ہو سکا- تین التواء کے بعد پریزائیڈنگ آفیسر نے ایوان کو آگاہ کیا کہ ڈپٹی اسپیکر نے ایوان میں پیدا ہونے والی صورتحال کو حل کرنے کے لیے اپوزیشن جماعتوں کے رہنماؤں کو اپنے چیمبر میں مذاکرات کے لیے بلایا ہے -جب ایوان کی کارروائی دو بجے دوبارہ شروع ہوئی تو ڈپٹی چیئرمین بھوبنیشور کالیتا نے زراعت سے متعلق مسائل اور ان کے حل پر مختصر مدتی بحث شروع کی تو اپوزیشن اراکین نے اس کی شدید مخالفت کی-
ڈپٹی چیئرمین نے بی جے پی کے وجے پال سنگھ تومر سے ہنگامہ آرائی کے دوران بحث شروع کرنے کو کہا- کانگریس، ترنمول کانگریس، دراوڈ منیترا کزگم، بائیں اور عام آدمی پارٹی اس کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے ایوان کے وسط میں آئے اور نعرے لگانے لگے - نیشنلسٹ کانگریس پارٹی اور شیو سینا کے اراکین بھی اپنی نشستوں کے قریب کھڑے ہو کر نعرے لگاتے ہوئے دیکھے گئے -مباحثے کے دوران اچانک عام آدمی پارٹی کے سنجے سنگھ وہاں تعینات مارشلوں سے بچتے ہوئے جنرل سکریٹری کی میز پر چڑھ گئے - اس کے ساتھ کچھ دیگر اراکین نے بھی میز پر چڑھنے کی کوشش کی جس کی وجہ سے ایوان میں افراتفری کا ماحول پیدا ہوگیا- وہاں تعینات پانچ مارشلوں میں سے چار نے مسٹر سنگھ کو میز سے کھینچنا شروع کر دیا، جس پر مسٹر سنگھ نے مزاحمت کی لیکن مارشل نے انہیں زبردستی میز سے نیچے اتار لیا- دریں اثنا، مسٹر کلیتا نے ایوان کو2.20بجے30منٹ کیلئے ملتوی کر دیا- مارشلوں نے جنرل سکریٹری دیپک دیش ورما کو وہاں سے محفوظ نکالا-کارروائی ملتوی ہونے کے بعد بھی اپوزیشن کے چار پانچ اراکین سکریٹری جنرل کی میز پر بیٹھے رہے جبکہ دیگر میز کے گرد کھڑے رہے - کارروائی شروع ہونے سے چند سیکنڈ پہلے اور اسپیکر کے ایوان میں داخل ہونے سے پہلے مارشل مسٹر ورما کو اپنی کرسی پر لے گئے، ان کے لیے جگہ بنائی- دریں اثناء صورتحال کے پیش نظر پارلیمنٹ میں مختلف مقامات پر تعینات واچ اینڈ وارڈ کے تقریباً پچاس مارشلوں کو ایوان میں بلایا گیا- یہ شاید پہلی بار ہوگا کہ اتنے مارشلوں کو ایوان میں ایک ساتھ بلایا گیا ہے - جب ایوان کی کارروائی دوبارہ شروع ہوئی تو عام آدمی پارٹی کے سنجے سنگھ، مارکسٹ پارٹی کے مسٹر شیوداسن اور سی پی آئی کے ونے وشوام اور کانگریس کے رپون بورا پہلے ہی میز پر کھڑے تھے - ڈپٹی چیئرمین کے آتے ہی انہوں نے زرعی قوانین کے خلاف نعرے لگانے شروع کر دیے - کچھ اپوزیشن اراکین نعرے لگا رہے تھے اور کچھ تالیاں بجا رہے تھے - کچھ دوسرے میزوں پر زور سے تالیاں بجا رہے تھے - انہوں نے جنرل سیکرٹری اور ان کے عملے کی میز کو مکمل طور پر گھیر لیا-